بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کو مذاق میں حاجی کہنا

سوال

کیا کسی کو مذاق میں حاجی کہہ سکتے ہیں؟

جواب

جو شخص حج کرکے آئے تو اسے حاجی کہا جاتا ہے، اسی طرح عمرہ بھی چوں کہ ایک اعتبار سے چھوٹا حج ہے اس کے کرنے والے کو بھی حاجی کہہ دیا جاتا ہے،  اور ہمارے عرف میں بسا اوقات بزرگ شخص کو بھی حاجی کہہ دیا جاتا ہے،  لہذا اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کو حاجی کہے جو حج یا عمرہ کرکے نہیں آیا اور اس کو حاجی کہنے سے کسی کو دھوکا دینے یا خلاف واقع بات کا اظہار مقصود نہ ہو  بلکہ تفاؤلاً (کہ مستقبل میں اللہ اس کو حج کرادے گا) کہہ دے تو یہ جائز ہے، اسی طرح اگر کبھی مذاقا کہہ دیا اور دل میں مقصد نیک یا مثبت پہلو ہے تو بھی گنجائش ہے، لیکن اگر دھوکا دہی یا خلاف واقع کے اظہار کا اندیشہ ہو یا دوسرے کو حاجی کہنے میں منفی پہلو  (مثلاً استہزا یا تمسخر کا انداز) ہو تو پھر  یہ جائز نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200290
تاریخ28-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں