بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نشہ کی حالت میں بیوی کو میں تجھے چھوڑدوں گا کہنے کا حکم

سوال

عبداللہ نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی خالدہ سے دو مرتبہ کہا کہ میں تجھ کو چھوڑ دوں گا، کیا ان الفاظ سے طلاق ہوجاتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عبد اللہ کا اپنی بیوی خالدہ  کو مذکورہ جملہ ۔''  میں تجھ کو چھوڑ دوں گا'' کہنا طلاق واقع کرنے کی دھمکی ہے،  اس لیے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

باقی نشہ کرنا حرام ہے، اور نشہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے، اس لیے توبہ و استغفار کے ساتھ   اس سے اجتناب ضروری ہے۔

"وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر".

(فتاوی شامی، ۳/۲۴۸، سعید)


في المحيط: "لو قال بالعربية: أطلق، لايكون طلاقاً إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقاً".

(الفتاوی الهندیة، ۱/۳۸۴، رشیدیه) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200288
تاریخ28-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں