بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعا قنوت یاد نہ ہونے کی صورت میں وتر میں کوئی اور دعا پڑھنا

سوال

دعائےقنوت یاد نہ ہونے کی صورت میں نماز وتر میں کیا پڑھا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ وتر میں دعائے قنوت کے لیے کوئی مخصوص دعا اس طور پر متعین نہیں کہ اگر وہ نہ پڑھی تو وتر ادا نہ ہو، البتہ  ’’اللّٰهم إنا نستعينك ...‘‘ الخ   پڑھنا اولی ہے، بعض کتب میں اس قنوت میں یہ دعا پڑھنا سنت قرار دیا ہے۔ اور اگر کسی کو دعائے قنوت یا نہ ہو  تو جب تک یاد نہ ہوجائے اس وقت تک (ربنا آتِنَا فِيْ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِيْ الآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ) اور اگر یہ بھی یاد نہ ہو تو تین بار (اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلی)   پڑھ سکتا ہے، البتہ دعاءِ قنوت یاد کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

 فتاوی ہندیہ میں ہے:

وليس في القنوت دعاء مؤقت، كذا في التبيين. و الأولي أن يقرأ : اللّهم إنا نستعينك و يقرأ بعده اللّهم اهدنا فيمن هديت. و من لم يحسن القنوت يقول: "ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة و قنا غذاب النار"، كذا في المحيط. أو يقول: اللّهم اغفرلنا، و يكرر ذلك ثلاثاً، وهو اختيار أبي الليث، كذا في السراجية.

(الباب الثامن في صلاة الوتر، ١/ ١١١، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200277
تاریخ28-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں