خلع کی عدت
سوال
خلع کی عدت تین حیض ہے، تین ماہ ضروری ہے یا تین حیض آنا کافی ہے؟
جواب
جس عورت کو ایام آتے ہوں اس کے لیے طلاق یا خلع کی صورت میں عدت کی مدت تین ماہواریاں ہوں گی، اگرچہ تین مہینے پورے ہونے سے پہلے مکمل ہوجائے۔
البتہ اگرعورت حاملہ ہوتو عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہوگی۔
جس عورت کی ماہواری بند ہوجائے، اُس کی عدتِ طلاق/ خلع مہینوں کے اعتبار سے تین ماہ میں پوری ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144110200232
تاریخ27-05-2020

