بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع کی عدت

سوال

خلع کی عدت تین حیض ہے، تین ماہ ضروری ہے یا تین حیض آنا کافی ہے؟

جواب

جس عورت کو ایام آتے ہوں اس کے لیے طلاق یا خلع  کی صورت میں  عدت کی مدت تین ماہواریاں ہوں گی، اگرچہ تین مہینے پورے ہونے سے پہلے مکمل ہوجائے۔

البتہ اگرعورت حاملہ ہوتو عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہوگی۔

جس عورت کی ماہواری بند ہوجائے، اُس کی عدتِ طلاق/ خلع  مہینوں کے اعتبار سے تین ماہ میں پوری ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200232
تاریخ27-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں