بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دورانِ اعتکاف بارش کا پانی ٹپکنے کی وجہ سے معتکفہ کا کمرہ منتقل کرنے کا حکم

سوال

اگر عورت اعتکاف میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں منتقل ہو جاۓ بارش کے قطروں کی وجہ سے تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

عورت گھر کے جس حصے میں اعتکاف کی نیت کرے بلا ضرورتِ شرعی یا بلاضرورتِ طبعی اس سے نکلنا اس کے لیے جائز نہیں، اس سے اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

لہذا بصورتِ مسئولہ کمرے میں بارش کے پانی کے ٹپکنے کی وجہ سے  عورت کا  دوسرے کمرے میں منتقل ہوجانے سے مسنون اعتکاف ٹوٹ جائےگا، البتہ بعد میں ایک دن ایک رات کی قضا روزہ کے ساتھ کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

و أما مفسداته فمنھا الخروج من المسجد فلایخرج المعتکف من معتکفه لیلاً و نھارًا إلا بعذر و إن خرج من غیر عذر ساعة فسد اعتکافه  ... ومن الأعذار  الخروج للغائط و البول و أداء الجمعة.

(الفتاوى الھندیة، ج:1،ص:212، ط:مکتبة حقانیة)

فتاوی شامی میں ہے:

وأما ما لایغلب كإنجاء  غریق و انھدام مسجد فمسقط للإثم لا للبطلان ... وعلی ھذا إذا خرج لانقاذ غریق أو حریق أو جھاد عمّ نفیرہ فسد ولایأثم و كذا إذا انھدم المسجد.

(رد المحتار علی الدر المختار، ج:2،ص:447،ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200218
تاریخ27-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں