بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہوا نکلنے کے شبہ سے وضو ٹوٹنے کا حکم

سوال

بعض اوقات پاخانہ کی جگہ پر کچھ  حرکت سی محسوس ہوتی ہے، سمجھ میں نہیں آتا ریح خارج ہوئی ہے یا نہیں، کیا وضو برقرار رہتاہے؟

جواب

جب تک ہوا خارج ہونے کا یقین نہ ہوجائے اس وقت تک وضو برقرار رہتا ہے، اور ہوا خارج ہونے کا یقین یا تو  آواز سے ہوتاہے یا بدبو سے،محض حرکت  کی وجہ سے شک و  شبہ کی بنا پر وضو نہیں ٹوٹتا، 

بصورتِ  مسئولہ پاخانہ کی جگہ محض حرکت کی وجہ سےوضو نہیں ٹوٹتا جب تک وضو ٹوٹنے کا یقین نہ ہوجائے۔

مر قاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺَ: (لا وضوء إلّا من صوت أو ریح)

(عن أبي هریرة قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: إذا وجد أحدکم في بطنه شیئًا فأشکل علیه أخرج منه شيء أم لا، فلایخرجنّ من المسجد حتی یسمع صوتًا أو یجد ریحًا)،  و هذا مجاز عن تیقن الحدیث؛ لأنّهما سبب العلم بذلك". (مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح، ج:2، ص:30، ط:مکتبة رشیدیة) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200217
تاریخ27-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں