بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بھائیوں اور ایک بہن میں میراث کی تقسیم

سوال

 ورثاء میں تین بھائی اور ایک بہن ہے تو وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ کو  /7 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کے ہر بھائی کو /2 حصے (28.57٪) اور بہن کو ایک حصہ (14.28٪)  ملے گا۔

نوٹ : مذکورہ تقسیم اس صورت میں ہے جب مرحوم کے انتقال کے وقت اس کے والدین، اولاد اور مرد میت ہو تو بیوی اور  عورت میت ہو تو شوہر نہ ہو۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200214
تاریخ27-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں