بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شوہر بیوی کا مہر اپنی مرضی سے کم کرسکتا ہے؟

سوال

میرا نکاح 4 تولہ سونا پہ ہوا ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ  حقِ مہر 4 تولہ سونا کے بجائے 50000 ہزار رقم میں ادا کروں؛ اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نکاح کے موقع پر مقرر کردہ مہر  چار تولہ سونے میں اپنی مرضی سے کمی کرنے اور چار تولہ کے عوض 50000 روپے بطورِ مہر دینے کا شرعًا اختیار شوہر کو نہیں۔ نیز اس سلسلے میں بیوی پر دباؤ ڈالنا بھی جائز نہیں ہے، البتہ اگر بیوی از خود اپنی رضامندی سے مہر میں کمی کرے، یا وہ خود سونے کے متبادل رقم دینے کا کہے تو یہ اس کا حق ہے،

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَالْمَهْرُ يَتَأَكَّدُ بِأَحَدِ مَعَانٍ ثَلَاثَةٍ: الدُّخُولُ، وَالْخَلْوَةُ الصَّحِيحَةُ، وَمَوْتُ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ سَوَاءٌ كَانَ مُسَمًّى أَوْ مَهْرَ الْمِثْلِ حَتَّى لَايَسْقُطَ مِنْهُ شَيْءٌ بَعْدَ ذَلِكَ إلَّا بِالْإِبْرَاءِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ."

(الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا يَتَأَكَّدُ بِهِ الْمَهْرُ وَالْمُتْعَةُ، ١ / ٣٠٣ - ٣٠٤، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200160
تاریخ26-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں