بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام نے عید کی نماز حالت جنابت میں پڑھادی

سوال

عید کی نماز حالت جنابت میں پڑھادی یہاں تک کہ عید کی شام ہو گئی کیا حکم ہے؟

جواب

اگر ایسی صورت کبھی پیش آجائے اور نماز کے بعد لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے امام کو یاد آجائے تو دوبارہ دہرانی چاہیے اور اگر لوگوں کے متفرق ہونے کے بعد یاد آئے اور دوبارہ سے جمع کرنا مشکل ہو یا زوال کے بعد یاد آئے جیساکہ صورت مسئولہ میں  تو ضرورۃ کی بنا پر صحت کا حکم لگایا جائے گا۔(ماخوذ از عیدین کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا 250،251)

حاشية رد المختار على الدر المختار (2/ 176)
وفيه عن الحجة أمام صلى العيد على غير وضوء ثم علم بذلك قبل أن يتفرق الناس توضأ ويعيدون وإن تفرق الناس لم يعد بهم وجازت صلاتهم صيانة للمسلمين وأعمالهم ۔فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200102
تاریخ25-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں