بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید کی نماز کے لیے اقامت کہنا

سوال

اگر کسی شخص نے عید کی نماز اقامت کے ساتھ پڑھائی تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

پانچ وقت کی فرض نماز اور جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنے لیے اقامت کہنا مردوں پر سنتِ مؤکدہ ہے، ان کے علاوہ باقی نمازوں کے لیے اقامت نہیں ہے، لہذا عید کی نماز کے لیے اقامت  نہیں دینی چاہیے، لیکن اگر کسی نے غلط فہمی میں عید کی نماز کے لیے اقامت دے دی ہو تو بھی عید کی نماز ادا ہوجائے گی۔

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 78):
"و" كذا "الإقامة سنة مؤكدة" في قوة الواجب؛ لقول النبي صلى الله عليه وسلم: "إذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم أحدكم وليؤمكم أكبركم"، وللمدوامة عليهما "للفرائض"، ومنها الجمعة؛ فلايؤذن لعيد واستسقاء وجنازة ووتر".

فقط و الله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200097
تاریخ25-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں