بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں رکوع رہ جانے کا حکم

سوال

اگر نماز میں رکوع رہ جائے تو کس رکن میں اور کہاں ادا کرے ،کس رکعات میں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ جب نماز میں رکوع بھولے سے رہ جائے تو یاد آتے ہی نماز کے اندر اندر کسی بھی رکعت میں اس فوت شدہ رکوع کو ادا کرلے،اور  آخر میں سجدہ سہو کرلے تو نماز ہوجائے گی۔  اگر نماز کے اندر رکوع نہیں کیاتو نماز نہیں ہوگی، اس نماز کو دوبارہ پڑھناضروری ہوگا۔

اور اگر امام کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ہوئے مقتدی کا رکوع رہ جائے (مثلاً اس کی آنکھ لگ جائے)  تو اسے چاہیے کہ وہ رکوع ادا کرکے امام کے ساتھ اگلے ارکان میں شریک ہوجائے، ایسی صورت میں مقتدی کے ذمے آخر میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها رعایة الترتیب في فعل مکرر، فلو ترك سجدةً من رکعةٍ فتذکرها في آخر الصلاة سجدها و سجد للسهو لترك الترتیب فیه ولیس إعادة ما قبلها". (الفتاوی الهندیة، ج:1، ص: 127، ط:ایچ ایم سعید) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200080
تاریخ25-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں