بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوال کے چھ روزے عید کے دوسرے دن سے رکھنا لازم ہے یا نہیں؟

سوال

اگر کوئی شوال کے چھ  روزے رکھنے کا ارادہ کرے تو اسے لازمی ہے کہ عید کے دوسرے دن سے ہی شروع کرے یا شوال کے مہینے میں کبھی بھی رکھ سکتا ہے؟

جواب

پورے شوال کے مہینے میں چھ روزوں کی فضیلت وارد ہوئی ہے، یہ روزے عید کے دوسرے دن سے شروع کرنا لازمی نہیں ہے، بلکہ شوال کے مہینہ میں کبھی بھی رکھ سکتا ہے، چاہے لگاتار چھ روزے ایک ساتھ رکھے اور چاہے تو الگ الگ کر کے رکھے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200064
تاریخ25-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں