بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غلطی سے امام کو غلط لقمہ دے دینا

سوال

امام چوتھی رکعت کے تشہد میں بیٹھا تو مقتدی نے بےخبری میں تیسری رکعت کا گمان کرتے ہوئے "اللہ اکبر"  سے غلط لقمہ دے دیا،  براہِ کرم غلط لقمہ کی شرعی حیثیت اور مقتدی کی نماز کا حکم بحوالہ بیان فرمادیں!

جواب

فرض نماز میں اپنے امام کو لقمہ دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ مقتدی کے لیے امام کو لقمہ دینے (غلطی بتانے)  میں جلدی کرنا مکروہ ہے ۔

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ مقتدی کے  امام کو غلطی سے غلط لقمہ دے دینے سے  نماز فاسد نہیں ہوگی۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ـ مشكول (4/ 52):

"الْحَاصِلُ: أَنَّ الصَّحِيحَ مِنْ الْمَذْهَبِ أَنَّ الْفَتْحَ عَلَى إمَامِهِ لَايُوجِبُ فَسَادَ صَلَاةِ أَحَدٍ لَا الْفَاتِحِ وَ لَا الْآخِذِ مُطْلَقًا فِي كُلِّ حَالٍ."

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200042
تاریخ24-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں