بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 کیا ایک ہی امام ایک ہی جنازہ دو مرتبہ پڑھا سکتا ہے؟

سوال

 کیا ایک ہی امام ایک ہی جنازہ دو مرتبہ پڑھا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نماز جنازہ کا تکرار شرعاً مشروع نہیں ہے، اس لیے کسی میت کی دو مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھانا ہی درست نہیں، خواہ ایک امام پڑھائے یا الگ الگ، البتہ اگر پہلا جنازہ ولی کی اجازت کے بغیر پڑھ لیا گیا ہو تو ایسی صورت میں ولی دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھ سکتا ہے، لیکن دوسرے جنازہ میں ایسا آدمی شریک نہیں ہو سکتا جو پہلے جنازے میں شریک تھا؛ کیوں کہ پہلی مرتبہ جنازہ پڑھنے سے فرض کفایہ  ادا ہو گیا، اگر دوسری مرتبہ ادا کرے گا تو وہ نفل واقع ہو گا اور جنازہ میں نفلی طور پر شریک ہونا درست نہیں۔

خلاصہ یہ کہ ایک امام ایک میت پر دو مرتبہ نماز نہیں پڑھا سکتا۔

الفتاوى الهندية (1/ 163):

"ولايصلى على ميت إلا مرةً واحدةً و التنفل بصلاة الجنازة غير مشروع، كذا في الإيضاح. و لايعيد الولي إن صلى الإمام الأعظم أو السلطان أو الوالي أو القاضي أو إمام الحي؛ لأنّ هؤلاء أولى منه وإن كان غير هؤلاء له أن يعيد، كذا في الخلاصة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200017
تاریخ24-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں