بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید سے پہلے عید کی مبارک باد دینا

سوال

عید کی چاند رات سے پہلے عید کی مبارک باد پیش کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

عید کی مبارک باد دینا اس کے بابرکت ہونے کی دعا دینا ہے،  عید کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینا جائز، بلکہ مستحب عمل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کو یہ دعا دیتے تھے کہ «تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ»، (اللہ تمہارے اور ہمارے نیک اعمال قبول فرمائے )۔

علامہ شامی رحمہ اللہ نے محقق ابن امیر حاج سے نقل کیا ہے کہ ہمارے شام میں لوگ ایک دوسرے کو  ”عید مبارک “ کہتے ہیں، تو اس کو بھی اس دعا کے عموم  میں شامل کیا جاسکتا ہے، اس لیے جس شخص کے اعمال قبول ہوگئے تو وہ زمانہ اس کے لیے بابرکت ہوگیا، اس لیے برکت کی دعا دینا جائز ہے، اور چوں کہ ایسا کرنا  لازم یا واجب نہیں، اور ایک دعا ہے،  اس لیے عید سے پہلے پیشگی یہ مبارک دینا منع نہیں  ہوگا،  لیکن اس کو لازم سمجھنا اور اس پر اصرار کرنا، اور نہ کرنے والوں پر نکیر کرنا شرعًا درست نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله : لاتنكر ) خبر قوله: "والتهنئة"، وإنما قال كذلك؛ لأنه لم يحفظ فيها شيء عن أبي حنيفة وأصحابه، وذكر في القنية: أنه لم ينقل عن أصحابنا كراهة، وعن مالك: أنه كرهها، وعن الأوزاعي: أنها بدعة، وقال المحقق ابن أمير حاج: بل الأشبه أنها جائزة مستحبة في الجملة، ثم ساق آثاراً بأسانيد صحيحة عن الصحابة في فعل ذلك، ثم قال: والمتعامل في البلاد الشامية والمصرية "عيد مبارك عليك" ونحوه، وقال: يمكن أن يلحق بذلك في المشروعية والاستحباب؛ لما بينهما من التلازم، فإن من قبلت طاعته في زمان كان ذلك الزمان عليه مباركاً، على أنه قد ورد الدعاء بالبركة في أمور شتى؛ فيؤخذ منه استحباب الدعاء بها هنا أيضاً"اهـ

(2/169،ط:دارالفکر)

  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203357
تاریخ23-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں