بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک جگہ عید کی نماز ادا کرکے خطبہ سننے دوسری جگہ جانا

سوال

دو جگہوں پر الگ الگ امام عید کی نماز پڑھائے اور دونوں جگہوں کا آدمی ایک ہی جگہ اکٹھا ہو کر خطبہ سن لے تو کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  بہتر اور مناسب طریقہ تو یہی ہے کہ  جو شخص عید کی نماز ادا کرے وہی خطبہ بھی دے،  اگر یاد نہ ہو تو خطبہ دیکھ کر بھی پڑھا جاسکتا ہے،  لیکن اگر عید کی نماز ایک شخص نے پڑھائی اور خطبہ کسی اور نے دیا تو  بھی عید کی نماز ادا ہوجائے گی۔ نیز عید کی نماز کے بعد خطبہ دینا سنت ہے۔

لہذا  صورتِ  مسئولہ میں اگر ایک امام کے پیچھے عید کی نماز پڑھنے والے مقتدی نماز کے بعد قریبی کسی اور امام کے پاس جاکر عید کا خطبہ سن لیں تو  ان کی نماز ادا ہوجائے گی، البتہ پہلی جگہ بلاعذر خطبہ چھوڑدینا خلافِ سنت اور برا عمل ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 147):
"ولاينبغي أن يصلي غير الخطيب، كذا في الكافي".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 166):
"(تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها.
(قوله: فإنها سنة بعدها) بيان للفرق وهو أنها فيها سنة لا شرط وأنها بعدها لا قبلها بخلاف الجمعة. قال في البحر: حتى لو لم يخطب أصلا صح وأساء لترك السنة". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203312
تاریخ23-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں