بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جائیداد بیٹے کے نام کرانے سے بیٹا مالک نہیں ہوگا

سوال

میرے  والد نے مرنے سے پہلے ان کی جو زمین شاملات پر مشتمل تھی، میرے نام ہوائی انتقال کرا لیا اور وصیت کی کہ ان میں بہنوں کو نہ دیا جائے۔ لیکن میں شریعت کے مطابق ان کا حصہ دینا چاہتا ہوں،  کیا میں شریعت کے رو سے ایک چوتھائی حصہ رکھ سکتا ہو ں؟

جواب

والد مرحوم کی زمین تمام ورثاء کے درمیان شرعی اعتبار سے تقسیم ہوگی ۔ محض نام کرانے سے آپ مالک نہیں بنے؛ لہٰذا اگر شرعی طور پر آپ کا حصہ ایک چوتھائی نہ بن رہا ہو تو آپ کے لیے اس جائیداد میں سے چوتھائی حصہ رکھنا جائز نہیں ہوگا، تاہم آپ کے حصے کے تعین کے لیے دیگر ورثہ کی تفصیل جاننا ضروری ہے، تفصیل بتاکر جواب معلوم کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203306
تاریخ23-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں