بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سحری کا وقت باقی سمجھ کر صبح صادق کے بعد کھانے پینے سے روزہ کی قضا اور کفارہ کا حکم

سوال

جب سحری کے لیے اٹھا تو میں سمجھا کہ سحری میں شاید 20منٹ ہے, تھوڑا بہت کھایا،  میرے خیال میں 10منٹ اور بھی باقی تھے،  جب وضو کے لیے باہر نکلا تو دیکھا کہ روشنی ہےجب دوبارہ میں نے ٹائم دیکھا تو 4.25تھے نماز بھی ہو چکی تھی ،اب صرف روزے کی قضا ہو گی یا کفارہ بھی دینا پڑے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر بے خبری میں صبح صادق کے  بعد سحری کی ، یا سحری کرتے کرتے وقت ختم ہوگیا اور اس کے بعد بھی کھالیا تو اس دن کا روزہ نہیں ہوا،  بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ہوگی، البتہ پورا دن روزہ داروں کی طرح بھوکا پیاسا رہنا ہوگا، تاہم کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 405):
"أو تسحر أو أفطر يظن اليوم) أي الوقت الذي أكل فيه (ليلاً و) الحال أن (الفجر طالع والشمس لم تغرب) لف ونشر ويكفي الشك في الأول دون الثاني عملاً بالأصل فيهما ولو لم يتبين الحال لم يقض في ظاهر الرواية، والمسألة تتفرع إلى ستة وثلاثين، محلها المطولات (قضى) في الصور كلها (فقط)".

الفتاوى الهندية (1/ 194):
"تسحرّ على ظن أن الفجر لم يطلع، وهو طالع أو أفطر على ظنّ أنّ الشمس قد غربت، ولم تغرب قضاه، ولا كفارة عليه؛ لأنه ما تعمد الإفطار، كذا في محيط السرخسي". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203276
تاریخ22-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں