بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح سمجھ کر وتر کی جماعت میں اقتدا کرنا

سوال

 اگروتر کی نماز باجماعت ادا کی جارہی ہو اور کچھ لوگوں کو پتا نہ ہو اور انہوں نے تراویح کی ہی نیت کی اور وتر کی نیت نہیں کی تو اس نماز وتر کا کیا حکم ہے؟ وہ اب دوبارہ وتر پڑھیں یا امام کی نیت ہی ان سب مقتدیوں کے لیے کافی ہے?

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لوگوں نے اگر امام کے وتر شروع کرنے کے بعد  تراویح سمجھ کر اس کی اقتدا کرلی تو ان کی وتر کی  نماز ادا نہیں ہوئی،  اس کی قضا لازم ہوگی، البتہ ایسی صورت حال میں امام کے سلام کے بعد چوتھی رکعت شامل کرکے نماز کو مکمل کرلینا چاہیے، اور یہ چار  رکعت نفل ہوجائیں گے۔

الفتاوى الهندية (1/ 117):
"ولو صلى التراويح مقتديًا بمن يصلي مكتوبةً أو وترًا أو نافلةً، الأصح أنه لايصح الاقتداء به؛ لأنه مكروه مخالف لعمل السلف". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203269
تاریخ22-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں