بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج کی رقم جمع کروانے کے بعد کوئی فوت ہوجائے

سوال

میری والدہ نے حج کے لیے داخلہ کیا تھا، جس کی منظور ی بھی آئی تھی، اس دوران میری والدہ فوت ہو گئیں، تو اب میری بہن ان ہی پیسوں سے میری ماں کی طرف سے حجِ بدل کر سکتی ہے یا نہیں؟ درآں حالیکہ میری بہن پر حج فرض نہیں اور نہ ہی اس سے پہلے کیا ہو ا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر  آپ کی والدہ پر حج فرض تھا اور والدہ مرحومہ  نے اپنی طرف سے حج کی وصیت کی ہے اور  حج کے لیے جمع شدہ رقم مرحومہ کے کل ترکہ کا ایک تہائی بنتی  ہو تو  اس صورت میں اس رقم سے حجِ بدل کروانا شرعًا ضروری ہے۔ حجِ بدل کے لیے کسی کو بھی حج پر بھیجا جاسکتا ہے، لیکن آپ کی بہن کے حج پر جانے کے لیے شرعًا ضروری ہے کہ اس کے ساتھ شرعی محرم ہو، کسی محرم کے بغیر اس کے لیے حج کا سفر کرنا شرعًا جائز نہیں، نیز بہتر ہے کہ ایسا شخص حجِ بدل کے لیے جائے جو  اپنا فرض حج ادا کرچکا ہو۔

اور   اگر وہ رقم مرحوم کے کل ترکہ کے ایک تہائی سے زیادہ ہو تو  زائد رقم کے حوالے سے باقی ورثاء سے اجازت لینی ہوگی، اگر ورثاء اجازت دے دیں تو بھی یہی حکم ہے، لیکن   اگر تہائی سے  زائد  کی ورثاء اجازت نہ دیں تو تہائی رقم  جس جگہ سے  حج کے اخراجات کے لیے کافی ہو، اس مقام سے حجِ بدل کرایا جائے گا۔

اور  اگر والدہ مرحومہ نے حج کی وصیت ہی نہیں کی تو ایسی صورت میں ورثاء کا ان کے ترکہ سے یا اپنی طرف سے حجِ بد ل کروانا شرعًا لازم نہیں ہے۔ تاہم والدہ سے حسنِ سلوک کا تقاضا اور بہتر یہی ہے  کہ ورثاء باہمی رضامندی سے والدہ کے حجِ بدل کا انتظام کرلیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203249
تاریخ22-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں