بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو تو روزوں کا حکم

سوال

 ایک بچی ہے جو اس سال رمضان سے پہلے بالغ ہو گئی  ہے اور اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے صرف چند مخصوض اشخاص اپنے والد والدہ اور قرآن پڑھانے  والے استاد کو کسی حد تک پہچان لیتی ہے اس کے والدین نے روزہ رکھنے سے اسے منع کیا اب کیا وہ کفارہ ادا کریں گے یا بچی قضا کرے گی؟ 

جواب

اگر ذہنی توازن ٹھیک نہ  ہونےکی وجہ سے   وہ  نماز روزے  کی تمیز  بالکل ہی نہیں رکھتی    تو پھر وہ اس حالت میں نماز روزے کی مکلف ہی نہیں ہے، اس لیے اس حالت میں جتنی نمازیں اور روزے چھوٹے ہوں ان کا کوئی فدیہ یا کفارہ کسی  کے ذمہ لازم نہیں ہوا اور اگر روزے نماز  اور ان کی فرضیت کو سمجھتی ہےتو شرعا قضا لازم ہوگی ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203241
تاریخ22-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں