بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انٹرنیٹ کنکشن کے کاروبار کاحکم

سوال

میرا انٹرنیٹ کنکشن بیچنے کا کاروبار کا ہے، اور ماہانہ پیسے ملتے ہیں، تو یہ کاروبار اور اس سے ملنے والا پیسوں کا کیا حکم ہے؟

جواب

انٹرنیٹ کنکشن کے کاروبار کی گنجائش ہے؛ کیوں کہ انٹرنیٹ کا استعمال صحیح مقاصد کے لیے بھی ہوتاہے، اس پر جو   پیسہ ملتا ہے وہ آپ کی اجرت ہے،اس کو لینے میں حرج نہیں ۔کنکشن لے کر جو غلط استعمال کرے گا اس کے گناہ کا ذمہ دار  خود  استعمال کرنےوالاہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في التتارخانیة: وفي الدلال والسمسار یجب أجر المثل، وما تواضعوا علیه أن في کل عشرة دنانیر کذا فذاك حرام علیهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن کان في الأصل فاسدًا؛ لکثرة التعامل، وکثیر من هذا غیر جائز، فجوزوه لحاجة الناس إلیه کدخول الحمام". (فتاوی شامی،کتاب الإجارة،ج:6 ص:63 ط:ایچ ایم سعید)

شرح الحموي  میں ہے:
"إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضیف الحکم إلی المباشر". ( شرح الحموي۴۰۴) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144109203220
تاریخ22-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں