بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تنخواہ ملنے کے باوجود امامِ مسجد کا صدقہ فطر مانگنا

سوال

مسجد کےامام جس کی تنخواہ مقررہو،  صدقہ فطرلوگوں کواعلان کرکےلےسکتےہیں یانہیں؟ یاکوئی اپنی طرف سے دیناچاہےتودےسکتاہےیانہیں؟

جواب

صدقہ فطر کا مصرف مستحقِ زکات ہے، اس کا تعلق تنخواہ مقرر ہونے یا نہ ہونے سے نہیں ہے لہذا اگر مذکورہ امام مستحق ہوں تو انہیں صدقہ فطر دینا جائز ہے اور مستحق نہ ہوں تو انہیں صدقہ فطر دینا درست نہیں ہے۔

رہی بات صدقہ فطر کے لیے اعلان کرنا، تو واضح ہو کہ اگر مذکورہ امام  کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانکنے کےلیے  کپڑا ہو تو ان کے لیے لوگوں سے مانگنا جائز نہیں ہے،  البتہ اگر ان  پر فاقہ ہو یا واقعی کوئی سخت ضرورت پیش آگئی ہو جس کی وجہ سے وہ انتہائی مجبوری کی بنا پر سوال کریں تو اس کی گنجائش ہے، لیکن مانگنے کے لیے اعلان کرنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔ مسجد انتظامیہ کو چاہیے کہ امامِ مسجد کا اتنا معقول مشاہرہ مقرر کریں جس سے ان کی ضروریات پوری ہوسکیں۔

الفتاوى الهندية (1/ 189):

"ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203215
تاریخ22-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں