بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے میں بوسہ لینا

سوال

"اگر بوس وکنار کے دوران مذی کے قطرے نکلے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔" [فتوی نمبر : 143909200017]

"البتہ اگر منی خارج نہیں ہوئی تھی صرف مذی (پانی کی طرح لیس دار مادہ) نکلی تھی تو روزہ فاسد نہیں ہوا، تاہم مکروہ ہوگیا ہے۔"  [فتوی نمبر : 144008201215]

پہلے فتوےٰ میں مکروه هونے کا ذکر نہیں،  جب کہ دوسرے فتوےٰ میں ذکر ہے، ایسا کیوں ہے ؟

جواب

مکروہ ہونے کا یہ حکم بوس وکنار سے متعلق ہے کہ  اگر اپنے اوپر مکمل اعتماد ہو تو  روزے  کی حالت میں بوسہ لینا   مکروہ نہیں اور اعتماد نہ ہو تو مکروہ  ہے۔

 کپڑوں کے  بغیر بیوی سے ملنے  کی صورت میں خواہ مذی  نکلے یا نہ نکلے دونوں صورتوں  میں مکروہ  ہے۔

دونوں جوابات کو سیاق سے ملا کر دیکھیں تو شک دور ہو جائے گا۔ 

فتوی نمبر : 143909200017: بوس و کنار کے بارے  میں ہے۔ 

فتوی نمبر : 144008201215: مباشرتِ  فاحشہ کے بارے میں  ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203178
تاریخ22-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں