بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بھائی اور چار بہنوں کی میراث کی تقسیم کا طریقہ

سوال

چار بہنوں اور دو بھائیوں میں گھر کی تقسیم کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دو بیٹوں اور چار بیٹیوں میں میراث کے مکان کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ  کل مکان کی مالیت لگا کر اس کو 8 حصوں میں تقسیم کرکے  ہر ایک بیٹے کو 2،2 حصے، اور ہر ایک بیٹی کو ایک، ایک حصہ ملے گا۔

یعنی مثلاً 100 روپے میں سے ہر  ایک بیٹے کو 25 روپے، اور ہر ایک بیٹی کو 12/5 روپے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

نوٹ: اگر مذکورہ سوال میراث کے علاوہ کسی صورت سے متعلق ہے، مثلاً ملکیت کے اعتبار سے مشترک مکان ہے، یا والد زندگی میں ان کے درمیان تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں، تو وضاحت کرکے دوبارہ سوال ارسال کردیجیے۔ 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203144
تاریخ21-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں