بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھانے کی مضرِ صحت اشیاء حلال ہیں یا حرام؟

سوال

کھانے کی ایسی اشیاء جس سے انسانی زندگی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے وہ حرام ہیں یا حلال؟ 

جواب

بہتر تھا کہ جس چیز  سے متعلق سوال مقصود ہے وہ   متعین کرکے سوال کرتے۔

بہرحال اصولی جواب یہ ہے کہ کھانے کی ایسی اشیاء جو حلال اجزاء پر مشتمل ہوں، لیکن ماہرینِ طب کی تحقیق کے مطابق انسانی صحت کے لیے یقینی طور پر مضر ہوں تو ان کا کھانا جائز نہیں، اگرچہ حلال اجزاء  کی  وجہ سے وہ اصولاً حلا ل ہی رہیں گی، حرام نہ ہوں گی۔ البتہ اگر ان کے اجزاء  ہی حرام یا ناپاک  ہوں تو ان کا کھانا ناجائز ہوگا اور وہ اشیاء حرام کہلائیں گی۔اسی طرح جو اشیاء ناپاک ہیں یا جو گندی اور خبیث ہیں یا جو نشہ آور ہیں ان کا استعمال بھی حلال نہیں ہے۔

قاعدة "الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على التحريم".

(الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص:٧٣)

 فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203119
تاریخ21-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں