بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک میں موجود فوت شدہ لاوارث شخص کے دو کروڑ روپے کا مصرف

سوال

بینک میں ایک شخص  کے 2 دو کروڈ روپے  ہیں، وہ فوت ہوچکا ہے،  وہ لاوارث ہے،  اس کے  کوئی ورثاء نہیں ہیں، وہ ،تو کیا وہ 2 کروڑ میں لے سکتا ہوں ؟

جواب

لاوارث شخص کا مال بیت المال میں جمع کرایا جاتا ہے، موجودہ زمانہ میں بیت المال کا صحیح انتظام نہ ہونے کی وجہ سے علمائے کرام نے مدارس  یا مستحقینِ زکات پر شریعت کے مطابق خرچ کرنے والے اداروں کو اس کا بدل قرار دیا ہے، لہٰذا مذکورہ شخص کے پیسے کسی مدرسہ  میں مستحقِ  زکات بچوں کے  لیے جمع کروا دینے  چاہییں۔ سائل کو یہ رقم لینے کا حق نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203116
تاریخ21-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں