بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فلیٹ کی بکنگ کروانا اسٹرکچر سے پہلے

سوال

نئی تعمیرات میں فلیٹ بک کرانا کیسا ہے،  کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ جو چیز نظر نہیں آتی اس کی خرید و فروخت جائز نہیں؟

جواب

جس فلیٹ یا گھر کاوجود نہ ہو محض نقشہ بناہو ایسے فلیٹ یا گھر  کی بیع (خرید و فروخت) شے معدوم ہونے کی بنا پر  درست نہیں ہے۔البتہ یہ صورت اختیارکی جاسکتی ہے کہ وجودمیں آنے سے پہلے فلیٹ یا بنگلہ  کی خریدوفروخت کی بجائے وعدہ بیع کرلیاجائے، اوروعدہ بیع کی صورت میں باہمی رضامندی سے طے شدہ رقم ایڈوانس کے طورپراداکی جائے ۔ اورجب فلیٹ یا بنگلہ وغیرہ کی عمارت وجودمیں آجائے (یعنی کم از کم اسٹرکچر کھڑا ہوجائے) پھر مکمل طورپرخریدوفروخت کی بات کردی جائے۔(الہدایۃ 3/46ط:المکتبۃ الاسلامیۃ) نیز جب فلیٹ کا ڈھانچا وجود میں آجائے تو اسے آگے فروخت کرنا بھی جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203105
تاریخ21-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں