بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قمیص اتار کر نماز پڑھنا

سوال

قمیص اتار کر نماز پڑھی جا سکتی ہے؟

جواب

نماز  ایک عظیم الشان عبادت ہے، اس کی ادائیگی میں انتہائی ادب کی رعایت کرنی چاہیے، نماز میں انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دے رہا ہوتا ہے،  اور اللہ تعالیٰ سے مناجات کررہاہوتاہے؛ لہذا نماز کی حالت میں ایسی ہیئت اختیار کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے مناسب ہو ، اس لیے واضح سا معیار فقہاءِ کرام نے یہ بیان کیا ہے کہ ایسے لباس اور ہیئت میں نماز ادا کرے جو لباس کسی مہذب و شائستہ، نیک لوگوں کی مجلس میں پہن کر انسان جاسکے، لہٰذا بلا عذر قمیص کے بغیر نماز پڑھنا جب کہ اوپر کے جسم پر کوئی بڑی چادر وغیرہ بھی نہ لی ہو،  آداب کے خلاف اور  مکروہ ہو گا۔

البتہ اگر کسی عذر قوی کی بنا  پر قمیص کے بغیر نماز پڑھی جائے،  مثلاً پاک قمیص دست یاب نہ ہو  اور وقت تنگ ہو تو ایسی حالت میں بغیر قمیص کے نماز ادا کرنے سے نماز  درست ہو جائے گی۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

’’بغیر عذر کے ایسا کرنا مکروہ ہے‘‘۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203098
تاریخ21-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں