بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹی اور بھتیجوں میں تقسیم وراثت

سوال

اگر ماں کا انتقال ہوجائے، اس کی اکلوتی بیٹی ہو اور اس کے بھائی کے بیٹے ہوں اور اس کی بینک میں رقم موجود ہو تو وراثت کیسے ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  بینک میں جمع شدہ اصل رقم میں وراثت جاری ہوگی،  تاہم اگر اس جمع شدہ رقم کے ساتھ سودی رقم بھی اکاؤنٹ میں ہو تو اس زائد سودی رقم کو  وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

بہرحال اگر مرحومہ کے ترکہ میں قرضوں کی ادائیگی اور جائز وصیت ہو تو اس کو نافذ کرنے کے بعد مرحومہ کے ترکہ میں 50% حصہ اس کی اکلوتی بیٹی کا ہے اور بقیہ ترکہ مرحومہ کے  بھائی کے تمام بیٹوں میں برابر تقسیم کیاجائے گا۔

نوٹ : یہ تقسیم اس وقت ہے جب مرحومہ کے انتقال کے وقت مرحومہ کے والدین، شوہر، بیٹا، بھائی زندہ نہ ہوں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203036
تاریخ20-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں