بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

استخارہ میں کوئی اشارہ نہ ملے تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر استخارہ میں کچھ بھی اشارہ نہ ملے تو اس کا کیا مطلب ہے ؟

جواب

استخارے میں واضح اشارہ ملنا یا خواب آنا ضروری نہیں ہے، بلکہ استخارہ کے  بعد  جس طرف دل مائل ہو وہ کام کرلیا جائے، اگر ایک دفعہ میں قلبی اطمینان حاصل نہ ہو تو سات دن تک یہی عمل دہرائے، ان شاء اللہ خیر ہوگی، حاصل یہ ہے کہ استخارہ میں اصل بات قلبی رجحان اور اطمینان ہے۔ اور بعض اوقات قلبی رجحان استخارے کے بعد متعلقہ چیز کے مفاسد یا فوائد واضح ہوجانے سے بھی ہوجاتاہے۔

استخارہ کی تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

استخارہ کے کتنے طریقے ہیں؟ تسبیحات اور اعداد و شمار کے ذریعہ استخارہ کرنے کا حکم

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203007
تاریخ20-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں