بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مضاربت میں مال ہلاک ہونے کی صورت میں کیا ہوگا؟

سوال

اگر مضاربت میں مال ہلاک ہوجائے تو اس کا تاوان مضارب پر ہو گا یا رب المال پر, اور مال کا ہلاک ہونا کسے کہتے ہیں؟

جواب

مضاربت میں نقصان کی صورت میں ابتداءً اس نقصان کی تلافی نفع سے کی جائےگی، اگر نقصان نفع سے بھی زیادہ ہو تو پھر نفع کے بعد باقی نقصان کی تلافی اصل سرمائے سے کی جائے گی۔ اور اگر نفع ہونے سے پہلے ہی ابتدائی طور پر  نقصان ہوجائے تو  سرمایہ کار نقصان برداشت کرے گا اور  ان دونوں صورتوں میں مضارب کی محنت رائیگاں جائے گی، مضارب امین کی حیثیت سے کام کرے گا۔ ہلاک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی تعدی (زیادتی) کے بغیر مال ضائع ہوجائے مثلاً آفتِ سماوی سے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 656):
"(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202965
تاریخ20-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں