بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک ہی سورت کا بعض حصہ پہلی رکعت میں اور بعض دوسری رکعت میں پڑھنا

سوال

1: تراویح کی ایک رکعت میں کسی سورت کی ابتدائی آیات اور دوسری رکعت میں اس سورت کا درمیانی حصہ پڑھنا کیسا ہے؟

2 : قرآن کی جو آیات یاد ہوں، انہیں ترتیب کے ساتھ  رکعات میں پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

1 : صورتِ مسئولہ میں ایک ہی سورت کا ایک حصہ پہلی رکعت میں اور دوسرا حصہ دوسری رکعت میں پڑھنا درست ہے بشرطیکہ درمیان میں دو یا دو سے زائد آیات چھوڑ  کر پڑھے، بہتر یہ ہے کہ ایسی صورت میں درمیان میں اتنی مقدار چھوڑ کر دوسری رکعت میں تلاوت کرے جس سے دو رکعت کی واجب مقدار تلاوت ہوسکے، یعنی دو طویل آیتیں یا چھ مختصر آیتیں درمیان میں چھوڑ کر پڑھے۔

2 : نماز میں قرآن کی ملی ہوئی آیات پڑھنی چاہیں، بلا ضرورت مختلف جگہوں سے مختلف آیات پڑھنا (خواہ بالترتیب ہی کیوں نہ ہو)مکروہ ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 546):
"(قوله: ولو من سورة إلخ) واصل بما قبله أي لو قرأ من محلين، بأن انتقل من آية إلى أخرى من سورة واحدة لايكره إذا كان بينهما آيتان فأكثر، لكن الأولى أن لايفعل بلا ضرورة؛ لأنه يوهم الإعراض والترجيح بلا مرجح، شرح المنية؛ وإنما فرض المسألة في الركعتين؛ لأنه لو انتقل في الركعة الواحدة من آية إلى آية يكره وإن كان بينهما آيات بلا ضرورة؛ فإن سها، ثم تذكر يعود مراعاة لترتيب الآيات، شرح المنية". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202954
تاریخ20-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں