بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چوری کا مال واپس کرنا

سوال

میں ایک جگہ کام کرتا تھا اور وہاں سے چوری کرتا تھا، لیکن بعد میں میں نے مال کے مالک سے معافی مانگ لی، اس نے مجھے معاف کردیا اور مال واپس نہیں مانگا، میرے پاس پوری رقم واپسی کی موجود نہیں۔ اب میں کیا کروں؟

جواب

مال کے مالک کا حق ہے کہ وہ آپ سے اس رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے، البتہ اگر وہ خود ہی معاف کردے اور نہ مانگے یا آپ کو بری کردے، تو عند اللہ بھی آپ بری ہوں گے، ان شاء اللہ۔ لہٰذا اگر آپ نے اس حوالے سے بھی معافی مانگی تھی اور مالک نے صراحتاً یا اشارۃً مال بھی معاف کردیا تو آپ کے ذمے اس کی ادائیگی شرعاً واجب نہیں ہوگی، بصورتِ دیگر تھوڑی تھوڑی کرکے رقم ادا کردیں۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (24/ 343):
"اتفق الفقهاء على أن التوبة النصوح، أي الندم الذي يورث عزما على إرادة الترك تسقط عذاب الآخرة عن السارق  ، ولكنهم اختلفوا في أثر التوبة على إقامة حد السرقة". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202924
تاریخ19-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں