بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث کی جائیداد کا کرایہ

سوال

میرے والد والدہ کا انتقال ہوچکا ہے، والد وراثت میں ڈبل اسٹوری مکان اور دوکان چھوڑ گئے ہیں،  ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، والد کے انتقال کے بعد بڑی بہن بہنوئی نے مجھے بیوی بچوں کے ساتھ گھر سے بدخل کردیا اور ماں کی خدمت کا بول کر گراونڈ فلور پرگزشتہ چار سالوں سے قابض تھی، مگر رشتہ داروں کے اصرار پر مجھے فرسٹ فلور پر رہنے کی اجازت مل گئی اور آج تک جب کے والدہ کا بھی چھ ماہ پہلے انتقال ہو چکا ہے گراونڈ فلور پر قابض ہے، اور میرے علاوہ ایک ذہنی معذور بھائی جو کہ میری زیرسرپرستی میرے  ساتھ ہی رہتا ہے اور دوسری شادی شدہ  بہن اپنے شوہر کے ساتھ سسرال میں رہتی ہے، مکان کے سیکنڈ  فلور سے کرایہ ۹۵۰۰ اور دوکان کا کرایہ ۷۰۰۰ روپے آتا ہے معذور بھائی اور مکان کی تمام مینٹینس/اِخراجات میں اسی کرائے سے ادا کرتا ہوں۔

دونوں بہنیں مکان ودوکان کے کرائے میں حصہ مانگ رہی ہیں جب کہ ایک بہن تو پہلے ہی قابض ہے،  میرا سوال یہ ہے کے ہم دو بھائیوں اور دو بہنوں کا کرائے میں حصہ کس طرح ہوگا؟

جواب

اگر والدین  کے اپنے والدین زندہ نہ تھے، تو  میراث کی تقسیم یوں ہے کہ ہر بھائی کا حصہ 33 اعشاریہ 33 فیصد اور ہر بہن کا حصہ  16 اعشاریہ 7 فیصد۔ جو کرایہ اس مکان و دکان  میں سے آتا ہے، اس کی تقسیم بھی اسی حساب سے ہی ہوگی۔

البتہ  آپ بھی اس کرائے کے بدلے بہن سے جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کرسکتے ہیں، نیز وہ بہن جو دوسرے گھر میں رہتی ہے اس کواس کاحصہ دینا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202921
تاریخ19-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں