بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

متولی کا مسجد یا حجرے میں سونا

سوال

کیا متولی مسجد میں سو سکتا ہے جیسے کہ حجرے میں رہنا؟

جواب

مسجد سے مراد اگر حدود مسجد کے اندر سونا  ہے تو  مسافر اور معتکف کے علاوہ افراد کے لیے مسجد میں کھانا،  پینا اور سونا مکروہ ہے، مسافر اور معتکف کے لیے مسجد میں کھانے، پینے اور سونے کی گنجائش ہے،  البتہ بامر مجبوری کسی کو مسجد میں سونا پڑتا ہے تو مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ اس کی گنجائش ہوگی:

 مسجد کے آداب کا پورا لحاظ رکھے کہ شور و غوغا، ہنسی مذاق اور لایعنی گفتگو سے پرہیز کرے، صفائی کا پورا اہتمام رکھے اور اعتکاف کی نیت کر لے۔ 
نمازیوں کو اس سے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے ، اذان ہوتے ہی اٹھ جائے اور بعد میں بھی نمازیوں کے سنن و نوافل یا ذکر و تلاوت وغیرہ میں مشغول رہنے تک ان کی عبادت میں خلل نہ ڈالے۔
اگر طلبہ ہوں تو  باریش یا کم از کم آدابِ  مسجد سے واقف اور باشعور ہوں،  کم سن بے شعور  بچوں کو مسجد میں سلانا جائز نہیں ۔

نیز  اگر مسجد میں سونے کی ضرورت پیش آئے تو  اپنا کپڑا یا بستر بچھاکر سونا چاہیے، تاکہ اگر احتلام ہوجائے تو مسجد کی چٹائی اور فرش ناپاک نہ ہو۔ اور جب احتلام کی صورت پیش آجائے تو احتیاط کے ساتھ جلد از جلد مسجد سے نکل جائے۔ اور اگر خدا نخواستہ مسجد کی جگہ ناپاک ہوجائے، تو غسل سے واپس آکر فوراً وہ جگہ پاک کرنے کا اہتمام کرے، یاد رہے کہ  مسجد کی حدود سے باہر سونے کا حکم یہ نہیں ہے، اگر مسجد کی حدود سے باہر کسی مقصد کے لیے کوئی حجرہ وغیرہ بنایا ہوا ہے یا واقف نے وقف کرتے ہوئے اس غرض سے ایک حجرہ مختص کیا ہو تو متولی مسجد کے لیے اس میں سونا جائز ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202918
تاریخ19-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں