بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد بنانے کے لیے جمع کی گئی رقم پر زکوۃ کا حکم

سوال

 ایک آدمی مسجد بنانے  کے لیے  اپنے پاس علیحدہ سے رقم جمع کررہا ہے سال پورا ہوگیا ابھی رقم پوری نہیں ہوئی ہے، کیا اس رقم پر زکات فرض ہے؟

جواب

مسجد بنانے کے لیے جمع  کی گئی  رقم پر بھی زکات  لازم ہے،  جب تک کہ وہ رقم آدمی کی ملکیت میں موجود ہو،لہذا آپ کے پاس جمع کردہ مذکوہ رقم تنہا یا دوسرے اموال کے ساتھ مل کر نصاب کے برابر ہے  یا آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں تو چوں کہ آپ ہی اس رقم کے مالک ہیں؛ ا س لیے اس  رقم کی زکات  ادا کرنا آپ پر لازم ہے، چاہے رقم کو مسجد بنانے ، یا مکان بنانے کی نیت سے جمع کررکھا ہو یا تجارت وغیرہ کی نیت سے،نقد رقم کی زکاۃ بہرصورت لازم ہے ۔

البتہ اگر دوسروں سے لے کر رقم جمع کی ہو تو دوسرے لوگوں کے  مال میں زکات  لازم نہیں ہے، کیوں کہ یہ رقم مسجد کے لیے چندہ دینے کے بعد ان کی ملکیت سے نکل چکی ہے۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202883
تاریخ19-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں