بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لیٹ کر قرآن کریم کی تلاوت کرنا

سوال

کیا لیٹ کر قرآن پاک ہاتھ میں لے  کر    پڑھ سکتے؟

اسی طرح قرآن پاک موبائل پر پڑھنا لیٹ کر درست ہے؟

جواب

قرآنِ مجید کی تلاوت کے آداب میں سے ہے کہ با وضو ہو کر پاک جگہ پر بیٹھ کر تلاوت کی جائے، لیٹ کر تلاوت کرنا (اگر لباس اور ستر کا اہتمام کیا جائے تو) جائز ہے، البتہ بغیر کسی مجبوری کے لیٹ کر چاہے قرآن کریم ہاتھ میں ہو یا موبائل میں دیکھ کر پڑھا جائے، تلاوت کرنا خلافِ ادب ہے؛ لہذا  خوب اہتمام کے ساتھ تلاوتِ کلامِ مجید  کی عادت بنانی چاہیے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے: 

لابأس بقراء القرآن إذا وضع جنبه علی الأرض، ولکن ینبغي أن یضم رجلیه عند القراءة، كذا في المحیط. لا بأس بالقراء ة مضطجعاً إذا أخرج رأسه من اللحاف؛ لأنه یکون كاللبس، وإلا فلا، كذا في القنیة.

(الفتاوى الهندیة، كتاب الکراهية، الباب الرابع في الصلاة والتسبیح وقراءة القرآن والذكر...، (5/ 316) ط: رشیدیة)

{الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ} ذكر تعالى ثلاث هيئات لايخلو ابن آدم منها في غالب أمره، فكأنها تحصر زمانه. ومن هذا المعنى قول عائشة رضي الله عنها : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه. أخرجه مسلم .

(الجامع لأحکام القرآن، للقرطبي)

 فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202878
تاریخ19-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں