بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غلط فہمی کی وجہ سے غروبِ آفتاب سے پہلے افطار کرنے کا حکم

سوال

روزہ دار غلط فہمی سے دس منٹ غروب سے قبل ایک ہفتہ تک روزہ افطار کرتا رہا ہے، وہ اس ٹائم کو غروب آفتاب کا وقت سمجھتا رہا ہے. اب اپنی غلطی پر بہت پریشان اور پشیمان ہے.  اس کا اب کیا حل ہے؟ کیا روزہ قضا کرنا پڑیں گے؟ 

جواب

اگر روزہ دار غلط فہمی کی وجہ سے غروب آفتاب سے پہلے ہی افطار کرلے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس روزے کی قضا لازم ہوگی، لیکن کفارہ لازم نہیں ہوگا، چنانچہ سوال میں مذکور روزے دار پر توبہ و  استغفار کے ساتھ  ساتھ   ایک ہفتے کے روزوں کی قضا کرنا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202778
تاریخ18-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں