بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا استمناء بالید کرلینے کا حکم

سوال

اگر کسی معتکف نے استمتاع بالید سے اپنا روزہ فاسد کردیا تو اس کا اعتکاف باقی رہا یا نہیں?

جواب

معتکف کا روزہ کسی بھی وجہ سے فاسد ہوجائے تو اس کا اعتکاف بھی فاسد ہوجاتا ہے؛ کیوں کہ مسنون اور واجب اعتکاف کے لیے روزہ ہونا شرط ہے،  جب شرط فوت ہوجائے گی تو مشروط بھی باقی نہیں رہے گا، لہٰذا اعتکاف کی حالت میں استمناء بالید کرنے سے اگر منی خارج ہوگئی تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور اس حرکت کا مرتکب شخص گناہ گار ہوگا، اس شخص پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں سچے دل سے اس فعل سے توبہ کرے اور روزہ کی قضا کے ساتھ  ساتھ ایک دن کے اعتکاف کی بھی قضا کرے۔

 اعتکاف کی قضا کا طریقہ یہ ہے کہ سال کے جن دنوں میں روزے رکھنا منع ہے، ان دنوں کے  علاوہ کسی دن مغرب سے دوسرے دن کے غروبِ آفتاب تک ایک دن رات کا اعتکاف کرلیا جائے، اگر رمضان کے دن باقی ہوں تو  بقیہ دنوں میں سے بھی کسی بھی دن اعتکاف کی قضا کرسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202767
تاریخ18-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں