بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام ظہر کی چھ رکعت پڑھے تو مسبوق کیا کرے؟

سوال

مسبوق نے امام کے ساتھ ظہر کی  نماز کے دو رکعت پائی، لیکن غلطی سے امام نے چھ رکعت پڑھالی، اب مسبوق اپنے نماز کیسے پورا کرے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں (یعنی دو رکعت ہونے کے بعد مسبوق جماعت میں شامل ہوا اور اسے دو رکعت امام کے ساتھ ملیں) جب امام پانچویں رکعت کے لیے اُٹھے تو مسبوق اس کی اتباع نہ کرے، یعنی بیٹھا رہے، پھر جب امام پانچویں رکعت کا سجدہ کرلے اور اپنے قعدہ اخیرہ کی طرف نہ لوٹے تو مسبوق کھڑا ہوکر اپنی بقیہ نماز پوری کرلے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 470):

"وما لا تعلق له بالصلاة فلايتابعه لو زاد سجدة أو زاد على أقوال الصحابة في تكبيرات العيدين أو على أربع في تكبيرات الجنازة أو قام إلى الخامسة ساهيا."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202760
تاریخ18-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں