بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجرت دے کر اعتکاف میں بٹھانا

سوال

 مسجد کے ذمہ دار رمضان میں اگر کسی شخص کو اپنی مسجد میں اس شرط کےساتھ اعتکاف کی دعوت دیتا ہے کہ آپ کو  کھا نا کپڑا مع نذرانہ کے دیا جائے گا، آپ ہماری مسجد میں اعتکا ف کریں، ایسے شخص کے لیے اعتکاف کرنا اور ذمہ دار مسجد کے لے اعتکاف کرانا کیسا ہے؟ سنت علی الکفا یہ کا صحیح مصداق کیا ہے؟

جواب

اجرت دے کر اعتکاف کرانا جائز نہیں ہے؛  کیوں اعتکاف عبادت ہے اور عبادت کے لیے اجرت دینا اور لینا دونوں ناجائز ہیں،  ہاں اگر اجرت دینے کی بات کیے بغیر اعتکاف کرایا اور وہاں اعتکاف کراکے اجرت دینا معروف ومشہور بھی نہ ہو  تو  معتکف کی خدمت میں کچھ پیش کرنا جائز ہے۔

نیز  ہر محلہ کی مسجد  میں اعتکاف کرنا اہلِ محلہ کے ذمے سنتِ مؤ کدہ علی الکفایہ ہے،  اگر تمام محلہ والوں میں سے کوئی بھی اس سنت کو ادا نہ کرے تو سب  اس سنت کے چھوڑنے والے  اور گناہ گار ہوں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202728
تاریخ18-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں