بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر محرم کو بھائی کہنا

سوال

ایک لڑکی سوشل میڈیا پر ایک غیر محرم کو سگا بھائی کہنے پر بضد ہے. بارہا قرآنی محرمات کا ذکر کرنے کے بعد بھی وہ اس غیر محرم کو سگا بھائی کہتی ہے، ایسی صورت میں قرآن کی نفی کرنے پر اس کا کیا گناہ ہے اور اس سے تعلق رکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

غیر محرم وہ ہے جس سے نکاح کرنا جائز ہے، اور  سگے بہن بھائی وہ ہیں جو ایک مرد وعورت سے پیدا ہوں، اور ان کا باہم نکاح حرام ہے۔ لہٰذا غیر محرم سگا بھائی ہو نہیں سکتا، اور ہر غیر محرم کوبھائی کہنا بے عقلی کی بات  ہے۔  نیز غیر محارم سے اختلاط گناہ ہونے کے ساتھ کئی مفاسد پرمشتمل ہے، بدنگاہی بھی ہے، بلا ضرور ت بات کرنا بھی گناہ ہے اور یہی تعلقات آگے چل کر نہ صرف کسی بڑے گناہ کا پیش خیمہ بنتے ہیں، بلکہ خاندانی رسوائی کا بھی سبب بنتے ہیں۔

بہرحال مذکورہ لڑکی کا غیر محرم کو سگا بھائی کہنا عقلاً و شرعاً درست نہیں ہے، لیکن صرف اتنا کہنے سے قرآنِ پاک میں مذکور محرمات کے حکم کا انکار ثابت نہیں ہوتا، لہٰذا اسے حکمِ قرآنی کا منکر کہنا درست نہیں ہے۔ اگر وہ غیر محرم کو بھائی کہنے کے ساتھ ساتھ اس سے اختلاط رکھتی ہو، ضرورت کے بغیر بات چیت کرتی ہو تو وہ گناہ گار ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202688
تاریخ18-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں