بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض معاف کر دینے کے بعد وصول کرنا

سوال

چچا نے کزن کی شادی کے لیے قرض لیا جس کے  لیے بات بھی اسی کزن نے کروائی گویا اس کزن کی حیثیت معاملے میں گواہ کی تھی،  چچا تین سال تک قرض واپس نہ کر سکے  تو قرض معاف کر دیا ،  اب وہ کزن قرض واپس کرنا چاہتے ہیں،  کیا لینا جائز ہے ؟

جواب

حدیث شریف میں قرض کی معافی اورتخفیف پرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی فضلیتیں ذکرفرمائی ہیں،جس قدرقرض کی رقم معاف کی گئی ہو اس کے بقدرصدقہ کاثواب ملتاہے،نیزقرض کی  معافی کی بنا  پر قیامت کے  دن مصائب سے  چھٹکارا نصیب ہوگا اور بعض  روایات  میں ہے کہ عرش کا سایہ نصیب ہوگا؛ اس لیے قرض کی رقم معاف کرنا بہت نیکی اور ثواب کا کام ہے اور قرض معاف کر دینے  سے مقروض کے ذمہ قرض کی ادائیگی لازم بھی نہیں رہتی۔

 لہذاایک مرتبہ قرض معاف کر لینے کے بعد دوبارہ اس کو وصول  نہیں کرنا چاہیے۔

الفتاوى الهندية (4/ 384):

[الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه]
(الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه الدين) . هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسًا واستحسانًا."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144109202683
تاریخ17-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں