بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مقام پر عید کی متعدد جماعت کرنا

سوال

موجودہ وائرس کے سبب کیا محلہ کی مسجد میں نمازِ عید الفطر کی دو جماعتیں کی جاسکتی ہیں جب حکومت نے نماز  کے لیے صرف پانچ افراد کی اجازت دی ہو؟

جواب

حکومت پاکستان کی جانب سے چوں کہ عید کی نماز پر سے پابندی اٹھا لی گئی ہے، لہذا پورے اہتمام کے ساتھ عیدگاہ یا بڑی جامع مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، اور ایک دفع جس جامع مسجد میں عید کی نماز ادا کرلی جائے، اسی مقام پر دوسری جماعت کرنا مکروہ ہے، لہذا اگر کسی کی ایک جماعت نکل جائے تو شہر میں دوسری جگہ جہاں نماز عید ادا کی جا رہی ہو وہاں شرکت کرلی جائے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"(قَوْلُهُ: وَلَمْ تُقْضَ إنْ فَاتَتْ مَعَ الْإِمَامِ) ؛ لِأَنَّ الصَّلَاةَ بِهَذِهِ الصِّفَةِ لَمْ تُعْرَفْ قُرْبَةً إلَّا بِشَرَائِطَ لَا تَتِمُّ بِالْمُنْفَرِدِ فَمُرَادُهُ نَفْيُ صَلَاتِهَا وَحْدَهُ وَإِلَّا فَإِذَا فَاتَتْ مَعَ إمَامٍ وَأَمْكَنَهُ أَنْ يَذْهَبَ إلَى إمَامٍ آخَرَ فَإِنَّهُ يَذْهَبُ إلَيْهِ؛ لِأَنَّهُ يَجُوزُ تَعْدَادُهَا فِي مِصْرٍ وَاحِدٍ فِي مَوْضِعَيْنِ وَأَكْثَرَ اتِّفَاقًا". ( كتاب الصلاة، بَابُ الْعِيدَيْنِ، ٢ / ١٧٥، ط: دار الكتاب الإسلامي) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202665
تاریخ17-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں