بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی حالت میں غسل فرض ہونے کا حکم

سوال

حالتِ اعتکاف میں عورت پر غسل فرض ہو گیا ہے، اب اس کے اعتکاف کا کیا حکم ہے؟غسل نیند کی حالت میں فرض ہوا، بیداری کی حالت میں فرض ہوا، دونوں حکم بتا دیں!

جواب

اگر اعتکاف کی حالت میں نیند کی حالت میں عورت پر غسل فرض ہوجائے تو اس کا اعتکاف نہیں ٹوٹا، وہ غسل کے لیے اعتکاف کی جگہ سے باہر نکل کر غسل کرسکتی ہے، اعتکاف نہیں ٹوٹے گا، بلکہ بیدار ہونے کے بعد اسے جلد از جلد غسل کرلینا چاہیے، اور غسل کے علاوہ اضافی وقت اعتکاف کی جگہ سے باہر صرف نہ کرے۔

بیداری کی حالت میں غسل فرض ہونے کی صورت بیان کرکے جواب معلوم کیا جائے۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202655
تاریخ17-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں