بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زمال ، اور افرہ / عفراء نام رکھنا

سوال

زمال اور افره دنوں ناموں کے معنی اور رکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

1۔۔  ’’زمال‘‘  کتاب کے وزن پر ہے، اس کا معنیٰ لنگڑا کر چلنا، کم زور و بزدل ، یہ  نام رکھنا  مناسب نہیں ہے۔

تاج العروس (ص: 7138، بترقيم الشاملة آليا):
"زَمَلَ يَزْمِلُ ويَزْمُلُ مِن حَدَّيْ ضَرَبَ ونَصَرَ زِمالاً بالكسرِ : عَدَا وأَسْرَعَ مُعْتَمِداً في أَحَدِ شِقَّيْهِ رَافِعاً جَنْبَهُ الآخَرَ وكَأَنَّهُ يَعْتَمِدُ عَلى رِجْلٍ واحِدةٍ وليسَ له بذلك تَمَكُّنُ المُعْتَمِدِ عَلى رِجْلَيْهِ جَمِيعاً . والزِّمالُ ككِتَابٍ : ظَلْعٌ في الْبَعِيرِ يُصِيبُهُ". 

زِمال : (معجم الرائد) زمال - و زمالة - (اسم) 1- ضعيف جبان".

2۔۔ اور افرہ کا عربی میں درست تلفظ  ”عفراء“ ہے، اس کے کئی معنی  آتے ہیں:

١)  سفید زمین۔ (معجم الرائد:أرض بيضاء)

٢)  قمری مہینے کی تیرہویں رات۔ ( معجم الرائد:  اللیلة الثالثة عشر من الشهر القمري)

٣) مٹی کا اوپری حصہ ۔(المعجم الوسیط : ما علاه التراب)

''عفراء بنت عبید بن ثعلبہ الانصاریہ''  رضی اللہ عنہا صحابیہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ( أسد الغابة/الإصابة) ان کی نسبت سے ''عفراء''  نام رکھنا درست  اور باعثِ برکت ہے، نیز صحابہ ،صحابیات کے نام رکھنے میں معنی کا اعتبار ضروری نہیں، نسبت کافی ہوتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202609
تاریخ17-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں