بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا مسجد میں غسل کرنا

سوال

کیا مسجد  کا صحن دھوتے وقت معتکف کا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے صحن میں غسل کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ معتکف کے لیے مسجد میں وضو  یا غسل کرنے کی اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ وضو یا غسل کا پانی مسجد میں نہ گرے، البتہ غیر معتکف کے لیے جائز نہیں، پس صورتِ مسئولہ میں مسجد  کی دھلائی کے دوران غسل کرنے میں چوں کہ پانی مسجد کے اندر ہی گر رہا ہوتا ہے، لہذا اس طرح غسل کرنے سے اجتناب ضروری ہوگا، تاکہ مسجد میں ماءِ مستعمل گرنے کی وجہ سے تلویث نہ ہو۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"وَإِنْ غَسَلَ الْمُعْتَكِفُ رَأْسَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا بَأْسَ بِهِ إذَا لَمْ يُلَوَّثْ بِالْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ فَإِنْ كَانَ بِحَيْثُ يَتَلَوَّثُ الْمَسْجِدُ يُمْنَعُ مِنْهُ؛ لِأَنَّ تَنْظِيفَ الْمَسْجِدِ وَاجِبٌ، وَلَوْ تَوَضَّأَ فِي الْمَسْجِدِ فِي إنَاءٍ فَهُوَ عَلَى هَذَا التَّفْصِيلِ. اهـ.

بِخِلَافِ غَيْرِ الْمُعْتَكِفِ فَإِنَّهُ يُكْرَهُ لَهُ التَّوَضُّؤُ فِي الْمَسْجِدِ، وَلَوْ فِي إنَاءٍ إلَّا أَنْ يَكُونَ مَوْضِعًا اُتُّخِذَ لِذَلِكَ لَايُصَلَّى فِيهِ وَفِي فَتْحِ الْقَدِيرِ خِصَالٌ لَاتَنْبَغِي فِي الْمَسْجِدِ «لَايُتَّخَذُ طَرِيقًا وَلَايُشْهَرُ فِيهِ سِلَاحٌ وَلَايُنْبَضُ فِيهِ بِقَوْسٍ وَلَايُنْثَرُ فِيهِ نَبْلٌ وَلَايُمَرُّ فِيهِ بِلَحْمٍ نَيْءٍ وَلَايُضْرَبُ فِيهِ حَدٌّ وَلَايُتَّخَذُ سُوقًا» رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي سُنَنِهِ عَنْهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ". ( باب الإعتكاف، ٢ / ٣٢٧، دار الكتاب الاسلامي) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202587
تاریخ17-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں