بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بائیس رکعات پڑھادی تو کیا قراءت کی مقدار لوٹائی جائے گی؟

سوال

اگر کسی نے بائیس  رکعت تراویح پڑھادی تو کیا حکم ہے، آیا اس میں پڑھا ہوا لوٹایا جائے گا یا نہیں؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ اکیسویں اور بائیسویں رکعت چوں کہ نفل ہوگئی،  تراویح کی نہیں ہوئی؛ اس لیے ان دو رکعت میں پڑھا ہوا قرآن آئندہ روز تراویح کی نماز میں دہرا لیا جائے؛ تاکہ تراویح میں کامل قرآن کی فضیلت حاصل ہوجائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202570
تاریخ17-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں