بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی کرایہ کی چلتی دوکان کسی اور کو کمیشن پر دینا

سوال

 زید نے ایک دکان کرائے پر حاصل کررکھی تھی جہاں وہ دودھ کا کاروبار کرتا تھا، دکان پر دس من دودھ روز بک جایا کرتا تھا،  زید نے یہ کرائے کی دکان قریبی رشتہ دار عمرو کو یہ کہہ کر دی کہ اس دکان میں روزانہ دس من دودھ بک جاتا ہے، تم یہ دکان مجھ سے ماہانہ کمیشن پر لے لو ، اس بات کا علم دکان کے مالک کو بھی ہے، اب دکان کا کرایہ ادا کرنا وتمام تر امور کی انجام دہی عمرو کرتا ہے اور ماہانہ کمیشن زید کو دیتا ہے۔ کیا زید کا عمرو سے کمیشن لینا درست ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں زید کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے کاروبار کی جگہ عمرو کو کمیشن کی شرط پر دے، کیوں کہ  شرعی ضابطہ ہے کہ کمیشن کسی عمل کی بنیاد پر حاصل کیا جاتا ہے اور ذکر کردہ صورت میں کمیشن کسی عمل کی بنیاد پر حاصل نہیں کیا جارہا، بلکہ اپنا ٹھیہ / کاروبار کی جگہ فراہم کرنے اور وہاں گاہکوں کی آمد و رفت کی وجہ سے لیا جارہا ہے، جو حقوق کا معاوضہ ہونے کی وجہ سے ناجائزہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202552
تاریخ17-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں